Archive for مئی, 2010

پہلے اسے پڑھیں

پہلے اسے پڑھیں
ایک انسان ہزاروں برس تحقیق و جستجو کے میدان میں سر گرداں رہتا ہےاور پھر کہیں جا کرتحقیق مکمل کرتا ہےلیکن پھر بھی اس تحقیق میں آئندہ کسی اور اضافےکو رد نہیں کیا جا سکتا۔
انسان فطری طور پر لالچی واقع ہوا ہے۔جس طرح نفع نظرآیافورامائل،گھائل اور قائل ہوجاتاہےاس لئے جب اس انسان کو اسلام کے دنیاوی فائدے بتلائےجاتےہیں تو واقعی وہ عمل پر آتاہے۔
یہ بات درست سہی کہ آج کامسلمان بہت زیادہ تعلیم یافتہ اور ترقی کا خواہاں ہےاوراپنی کمال محنت سے ہر چیز کےجزئیات تک پہنچنےکی کوشش میں ہےلیکن اس کو اس بات کا اعتراف ضرور کرنا پڑےگاکہ آج کے دور کی ایجادات وتحقیقات سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی معنوں میں محتاج ہے۔لہذا ہمیں خود ساختہ اور مصنوعی طریقوں کو ترک کرکےفطرت کی طرف لوٹناہے۔ہمارے سفر کی انتہا وہیں پر ہےجہاں سے ہم نےابتداءکی تھی اور ہمارامقصودصرف او رصرف اتباع سنت ہےنہ کہ اتباع سائنس؟
ایک ایمان والےاور اہل محبت کے نزدیک صرف اتناہی کافی ہےکہ یہ عمل اور فرمان خود مدینےکےتاجدارصلی اللہ علیہ وسلم کا ہےاور بس ؟
کہ جس کے سامنے دنیاکی تمام حکمتیں اور فلسفے ہیچ ہیں۔
ہماری نیت اتباع سنت ۔۔۔ہمارا عمل اتباع سنت۔۔۔

تبصرہ کریں