Archive for نومبر, 2011

نرم بستراور سنت مبارکہ

نرم بستراور سنت مبارکہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور آرام فرمانے کا بستر چمڑے کا ہوتا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔(شمائل ترمذی)
نرم بستر کمرکے درد کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ کمر اور پشت کے عضلات Muscles ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور اگرمسلسل نرم بستر استعمال کیا جائے تو یہ درد بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔
نرم بستر گردوں پر براا ثر چھوڑتا ہے حتی کہ گردوں کی نالیوں Ureters میں ایک پیچیدہ ورم پیداہو جاتا ہے۔نرم بستر کو ترک کرنے سے گردوں کی بیماری سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
نرم بستر ریڑھ کی ہڈی کے درمیانی فاصلون کو کم کرنے کا باعث ہے لہذا دور حاضر میں ماہرین اسے ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

Advertisements

تبصرہ کریں

سونے کے آداب

سونے کے آداب
حضور صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب رو بقبلہ ہو کر آرام فرماتے تھے (اسوۃرسول صلی اللہ علیہ وسلم)
حضرت عن میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو کر آنکھوں کوملتے تھے،بسترپر کچھ دیر بیٹھتے۔
رحمتہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے فورا بعد قیلولہ (آرام )فرماتے ۔
(اتنی دیر جس میں دس آیات پڑھتے ہیں)(ابن ماجہ)
دائیں کروٹ لیٹنے سے معدے اور آنتوں کا بوجھ دل پر نہیں پڑتا ہے جس کی وجہ سے دوران خون متاثر نہیں ہوتا ۔
دائیں کروٹ سونے سے دل معلق رہتا ہے اور شدید گہری نیند نہیں آتی یعنی ذراسی آہٹ پر آنکھ کھل جاتی ہے اور کسی بھی ناگہانی صورت میں انسان اپنی حفاظت کر سکتا ہے اور صبح سویرے عادت کا بھی سبب بنتا ہے۔
بیداری کے بعد بستر پر چند لمحوں کے لئے بیٹھنے سے اور دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملنے سے دل کی دھڑکن کوجسم کی نئی پوزیشن کے مطابق درست حالت میں لانے میں مدد ملتی ہے۔
جس سے دل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دوپہر کھانا کھانے کے بعد قیلولہ کرنے سے دل کی شریان پر بوجھ نہیں پڑتا ہے۔
ماہرین امراض قلب کے مطابق دوپہر کھانا کھانے کے بعد کچھ آرام کرنے سے دل پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تبصرہ کریں

مو نچھیں ترشوانا اور سائنس

مو نچھیں ترشوانا اور سائنس
حدیث مبارکہ کے مفہوم میں ہے کہ مونچھیں ترشواؤ اور داڑھی بڑھاؤ لیکن آج مونچھیں بڑھ رہی ہیں اور داڑھی کا نشان بھی باقی نہیں۔ اس ضمن میں جن نقصانات سے دو چار ہونا پڑتا ہے وہ تحقیق یہ ہے۔
کیول فادر ایک پرتگالی سائنس دان ہے اس کی تحقیق کے مطابق انسانی ہونٹوں میں ایسے حساس اور تیز گلینڈر ہوتے ہیں جن کاتعلق بالواسطہ دماغ سے ہے اور یہی گلینڈز مرد اور عورت کی انفرادی تعلق میں رحجان بڑھاتے رہتے ہیں۔
اوپر کے ہونٹ کے گلینڈ زمیں ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جن کیلئے بیرونی اثرات اور پانی بہت ضروری ہوتا ہے۔
جب کہ یہ کام اگر مونچھیں بڑی ہو تو نہیں ہوتا کیونکہ مونچھیں جب بڑی ہو گی تو اوپر کے ہونٹ پر پانی بھی لگے گا اور بیرونی ہوائی اثرات سے بھی متاثر ہو گا ورنہ مونچھیں پانی اور ہوا کو روکے رکھتی ہیں اگران گلینڈز کو پانی اور ہوانہ لگے ہو اس سے دائمی نزلہ مسوڑھوں کاورم اوراعصابی کھچاؤ پیداہو جاتے ہیں۔
اگر مونچھیں بڑی ہو تو جراثیم اس میں اٹک جاتے ہیں اور یہی جراثیم اس وقت اندر چلے جاتے ہیں
جب ہم غذا کھاتے ہیں اور یہ سائنس آج تحقیق کر رہی ہے اور مدینے کے سلطان صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیوں پہلے یہ فرمایا کہ مونچھیں پست کرواور داڑھی بڑھاؤ ۔

تبصرہ کریں

پانی پینے کے آداب

پانی پینے کے آداب
جناب عبد اللہ عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ کی طرح ایک ہی سانس میں پانی مت پیا کرو ٹھہر ٹھہر کردو یا تین سانس میں پیا کرو جب پینے لگو تو بسم اللہ پڑھ کر پیو۔فارغ ہو کر الحمد للہ کہو۔(جامع ترمذی)
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر تمہیں پتہ لگ جائے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے کا اتنا نقصان ہے تو وہ پانی تم حلق میں انگلی ڈال کر باہر نکال دو۔(رہبر زندگی)
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق کھڑے ہو کر اور ایک سانس میں پانی پینے سے جسم میں پانی جلد جذب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے گردوں پر گہر ا اثر پڑتا ہے اور جسم کے تمام حصوں پر ورم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔خصوصا پاؤں پر جیسے سائنسی اصطلاح میں Edema کہا جاتا ہے۔
کھانے کے بعد پانی پینا معدے کی عضلات کو ڈھیلا کرتا ہے معدے کی اندرونی جھلی کے ورم کا باعث بنتا ہے اور معدے میں اساس Alkali کی نسبت کم ہو جاتی ہے اور تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔
تین سانسوں میں پانی پینے کاعمل صحت کے لئے مفید ہے۔وقفوں سے گھونٹ بھرنے سے آخری گھونٹ،پہلے سے لئے جانے والے گھونٹوں سے رہ جانے والی پیاس کو بجھاتا ہے۔مزید کہ یہ طریقہ معدے کے درجہ حرارت کو غیر معمولی تبدیلی سے روکتا ہے۔

Comments (2)

داڑھی اور کالےبچھو

داڑھی اور کالےبچھو
ایک سچا واقعہ
کوئٹہ کے قریب ایک گاؤں میں کسی کلین شیو نوجوان کی لاوارث لاش ملی۔ضروری کاروائی کےبعد لوگوں نے مل جل کر اسے دفنا دیا۔اتنے میں مرحوم کے ورثاءڈھونڈتےہوئے آ پہنچے اور انہوں نے لوگوں کے سامنےاپنی اس خواہش کا اظہار کیاکہ ہم اپنے اس عزیز کی قبر اپنے گاؤں میں بنانا چاہتے ہیں چنانچہ قبر سے مٹی کھودکر ہٹا دی گئی اور جب چہرہ کی طرف سے پتھر کی سیل ہٹائی گئی تو یہ دیکھ کر لوگوں کی چیخیں نکل گئیں کہ ابھی جس کلین شیو نوجوان کو دفن کیا تھا اس کے چہرے پر کالی داڑھی بنی ہوئی ہےاور وہ داڑھی کالے بالوں کی نہیں بلکہ کالے بچھو ؤں کی ہے۔یہ ہو شر با منظر دیکھ کر لوگ استغفار پڑھنے لگے اور جوں توں قبر بندکر کےخوف زدہ لوٹ گئے۔محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ا دم بھر نے والوذرا اس حدیث مبارکہ کو بار بار پڑھو۔”مونچھیں خوب پست کرو اور داڑھیوں کوبڑھاؤاور یہودیوں کی سی صورت نہ بناؤ”۔(طحاوی شرح معانی الآثار)

تبصرہ کریں

داڑھی منڈوانے کے نقصانات

داڑھی منڈوانے کے نقصانات
داڑھی مردوں کی زینت اسلام کاشعاراور انبیاءعلیہم السلام کی سنت ہےامام احمد رضا خان نے اٹھا رہ آیات مقدسہ،بہتر احادیث مبارکہ اور ساٹھ بزرگان دین کے اقوال شریفہ کی روشنی میں داڑھی بڑھاناواجب اور مونڈانایا کترواکر ایک مٹھی سے کم کر دینا حرام ثابت کیا ہے۔(فیضان سنت)
اب ذیل میں طبی لحاظ سے شیوکے نقصانات عرض کرتا ہوں۔
شیو سے جتنا زیادہ نقصان جلد کو پہنچتا ہےشاید کسی اور جسم کے حصہ کو پہنچتا ہو کسی عضو پر مسلسل خراش سے وہا ں کی جلد کی قوت مدافعت کمزور ہو جایا کرتی ہےاسی اصول پرداڑھی منڈوانے میں مسلسل جلدی خراش سے چہرہ کی جلدکمزور اور سیاہ پڑ جاتی ہےاور خراش پانی والی جلد کے مقامی خلیات اس طرح مسلسل ہیجان اور خراش کے سبب وہاں کے خلیات ،خبیث خلیات میں بھی تبدیل ہو سکتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں کینسر جیسے لاعلاج مرض کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ مسلسل خراش پانے والی نازک جلدپر فضاء کے بیکٹیریا یا ایروب ہوا باش جراثیم حملہ آور ہو کر جلن داد،جھائیاں،خارش اور ایگزیماپیدا کرنے کاسبب بن سکتے ہیں۔
ہور انگلستان کے مشہورڈاکٹرگندر نے لکھا ہےکہ داڑھی انسان کی وضع قطع اور اس کی شخصیت پر گہرااثر ڈال سکتی ہے۔چنانچہ بہت سے آدمی داڑھی بڑھانے سے بے باک جری اور باہمت ہو گئےنفسیاتی طور پربزرگوں اور مذہبی لوگوں کی صورت اختیار کرنے سےبزرگی اور تقوی کا خیال پیدا ہوجاتا ہے۔(بحوالہ ہمدرد صحت جنوری1960ء)
شیو کامسلسل استعمال غدہ نخامیہ پر برے اثرات ڈالتا ہے پھر اس گلینڈر کے نقص کی وجہ سےاعصابی نظام اور جنسی نظام متاثر ہوتاہے۔(بحوالہ سنت نبوی اور جدید سائنس)
ایک ڈاکٹر نے داڑھی منڈوانے والوں کی آٹھویں پشت کو مخنث عینین قرار دیا ہے۔(بحوالہ کتاب فلسفہ قطبی)

تبصرہ کریں