ناخن کاٹنے کی سنت میں حکمت اور طبی فائدے

(ناخن کاٹنے کی سنت میں حکمت اور طبی فائدے)(صفہ اول)
حدیث پاک میں آتا ہے جو جمعہ کے دن ناخن تر شوائے اللہ عزوجل اس کے دوسرے جمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا۔
ناخن کاٹنے کاسنت طریقہ دو طرح سے ہے آپ جس طریقے پر بھی عمل کریں گے ان شاء اللہ سنت کا ثواب پائیں گے کبھی ایک طریقہ پر عمل کریں تو کبھی دوسرے پر تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہوجائے۔
(۱) سب سے پہلے سیدھے ہاتھ کی چھنگلیاپھر بیچ والی پھرانگھوٹھا پھر منجھلی یعنی چھنگلی کے برابر والی پھر شہادت کی انگلی پھر منجھلی ۔
(۲)یہ طریقہ آسان ہے پہلے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شروع کر کے ترتیب وار چھنگلیا سمیت ناخن تراشیں مگر انگھوٹھا چھوڑ دیں اب الٹے ہاتھ کی چھنگلیاسے شروع کر کے ترتیب وار انگھوٹھا سمیت ناخن تراش لیں اب آخر میں سیدھے ہاتھ کا انگھوٹھا جو باقی تھا اسکاناخن کاٹ لیں۔
اس طرح سیدھے ہی ہاتھ سے شروع اورسیدھے ہی ہاتھ پر ختم کریں۔
ناخنوں کی صفائی کے بارے میں سوشیل میڈیسن میں ڈاکٹر سیل اور پارک نے لکھا ہے کہ نسل انسان میں اس کااستعمال محدود اور ان کاغیر صاف رہنا بڑا پر خطرہوا کرتا ہے اس لئے زیادہ بڑھے ہوئے ناخن جراثیم کی پناہ گاہ اور اکثر متعدی بیماریوں مثلا ٹائیفائیڈ،اسہال ،پیچش ،ہیضہ اور آنتوں ک کیڑے اور ورم پیدا کرنے والے جراثیم کے پھیلانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر سیل لکھتے ہیں کہ بڑھے ہوئے ناخن مضر صحت ہوتے ہیں بعض لوگ اپنے ناخن اپنے دانتوں سے کترتے ہیں۔یہ ایک گندی عادت ہے ناخنوں کو ہمیشہ ان کی قدرتی حدود پر قائم رکھنا چاہئے۔(آداب صحت وپاکیزگی)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: